کمر درد کے بارے میں کب پریشان ہونا چاہئے اور کب نہیں

کمر درد کے بارے میں کب پریشان ہونا چاہئے اور کب نہیں


ترقی یافتہ معاشروں میں کمر کے درد نے ایک وبا کی شکل اختیار کر لی ہے اور اسے صحت کے سب سے زیادہ متعلقہ مسائل میں سے ایک سمجھا جاتا ہے



ترقی یافتہ معاشروں میں  کمر کے درد نے ایک وبا کی شکل اختیار کر لی ہے اور اسے صحت کے سب سے زیادہ متعلقہ مسائل میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔یہ 80 فیصد سے زیادہ آبادی کو زندگی میں کسی بھی وقت متاثر کر سکتا ہے۔اس کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے، ہمیں اس میں مناسب فرق کرنا ہو گا۔کمر کے مختلف حصوں میں درد کا الگ نام ہے جو اس حصے سے منسوب ہوتا ہے جہاں درد ہو رہا ہوتا ہے۔

ہمیں سرویکلجیا ہو سکتا ہے، جو کہ سروائیکل سے نکلا ہے، یہ سروائیکل ایریا (گردن) کو متاثر کرتا ہے۔پھر ڈورسلجیا ہے، کمر کے نچلے حصے میں درد۔
بہت ساری طبی رپورٹوں میں ان الفاظ کا ملنا عام ہے، لیکن یہ واقعی کسی تشخیص سے مطابقت نہیں رکھتے، صرف یہ بتاتے ہیں کہ کس مخصوص علاقے میں درد ہے۔اگرچہ کمر کا درد عام طور پر جان لیوا نہیں ہوتا، لیکن جب بھی شک ہو تو ماہرِ صحت سے مشورہ کیا جانا چاہیے۔




کچھ انتباہی علامات سینسری یعنی کسی حس میں تبدیلی اور عضلاتی یا پٹھوں میں تبدیلیوں کی شکل میں سامنے آتی ہیں۔جیسا کہ اعضاء میں جھنجھلاہٹ، طاقت میں کمی، پیشاب کی بے قاعدگی، بغیر کسی جواز کے وزن کم ہونا، دھچکا لگنا، چھاتی کے علاقے میں درد محسوس کرنا یا بخار ہونا۔سائنس بتاتی ہے کہ چہل قدمی درد کو کم کرتی ہے اور معیار زندگی کو بہتر بناتی ہے۔

طرز زندگی، عام طور پر ہماری صحت کا نا صرف ایک بہت بڑا دشمن، بلکہ کمر کے درد کو طویل کرنے اور زیادہ معذوری پیدا کرنے کی وجہ بھی ہے۔لہٰذا آرام کو مناسب طور پر جائز اور کم از کم ممکنہ وقت تک محدود ہونا چاہیے۔ایسا نہیں دیکھا گیا ہے کہ کھیلوں میں شمولیت کمر کے درد کو دوبارہ ظاہر کرنے کا سبب بنے۔بلکہ یہ اس بات کی حمایت کرتا ہے کہ اس سے فزیو تھراپی علاج کے فوائد کو برقرار رکھا جا سکتا ہے، جب تک کہ اس کی شدت اور مدت کو کنٹرول میں رکھا جائے۔

Comments